حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ، دھمکی اور دباؤ کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا، تاہم اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام، دفاعی صلاحیت، غزہ، ہرمز اور خطے کی سلامتی کو اپنے خطاب کے اہم موضوعات قرار دیا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں تہران کا مؤقف پیش کیا۔ ان کا خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔

پزشکیان نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایران میں حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے افراد کی تصاویر پیش کیں اور کہا کہ ایران دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے ایرانی شہریوں، خصوصاً بچوں کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔
ایرانی صدر نے دفاعی صلاحیت کے بارے میں کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت نہیں لے گا۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی طاقت کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ کسی بھی ملک کو ایران پر حملہ کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا دائرہ بڑھانے سے خطے میں سلامتی قائم نہیں ہوگی۔
پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں واضح کیا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنا نہیں چاہتا، لیکن پرامن جوہری ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق علم سے محرومی بھی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی ایران کے لیے علاج، زراعت، صنعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ترقی کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ جوہری علم کو چند ممالک تک محدود رکھا جائے۔ ان کے مطابق ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں قابلِ اعتماد ضمانتیں دینے کے لیے معاہدے پر بات چیت کر سکتا ہے، لیکن اس کے بنیادی حقوق بھی محفوظ رہنے چاہئیں۔

غزہ اور فلسطین کا مسئلہ
ایرانی صدر نے اپنی تقریر میں غزہ اور فلسطین کی صورت حال کو بھی اہمیت دی۔ انہوں نے فلسطین کو عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے خلاف جاری مظالم کو نظر انداز کرکے خطے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف خطے کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی اداروں کی کارکردگی اور عالمی انصاف کے نظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران یہ قبول نہیں کرسکتا کہ بعض ممالک اس اہم آبی گزرگاہ سے فائدہ اٹھائیں اور اسی راستے کو ایران کے خلاف دباؤ اور کارروائی کے لیے بھی استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس اور خطے کی سلامتی کو ایران کو نظر انداز کرکے یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ ایران کے صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کو سلامتی کا حریف سمجھنے کے بجائے مشترکہ سلامتی کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔

دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار، سفارت کاری کے لیے آمادگی
پزشکیان نے ایک طرف واضح کیا کہ ایران امریکی دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا، جبکہ دوسری طرف مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے آمادگی کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت، مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق جنگ کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ایسے معاہدے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے جس میں ایران کی سلامتی اور حقوق کی ضمانت موجود ہو۔
ایرانی صدر نے خطے کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ سلامتی کسی ایک ملک کے لیے الگ سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق یا تو خطے کے ممالک مل کر سلامتی قائم کریں گے یا پھر سب کو ناامنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پزشکیان کے خطاب میں مجموعی طور پر ایران کی جانب سے دفاعی طاقت، پرامن جوہری ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کے حق پر زور دیا گیا، جبکہ ساتھ ہی مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا رکھنے کا پیغام دیا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایران کے ساتھ تعلقات اور خطے کے مسائل کو دھمکی اور دباؤ کے بجائے بات چیت اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔









آپ کا تبصرہ